انسان کو سمجھنا
انسان پیدا کیوں کیا گیا؟
زندگی کا سفر اور مقصد کا شعور
انسان نے آج تک جتنی بھی مخلوقات کا مطالعہ کیا ہے ، چاہے وہ اس قدر چھوٹی ہوں کہ عام خورد بین سے نظر نہ آسکیں ، یا اس قدر بڑی ہوں ہو کہ تصوربھی ان کا احاطہ نا کرسکے ، ان سب کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور دریافت ہوا ہے یا ہو رہا ہے ۔بظاہر حقیر نظر آنے والی مخلوقات مثلاََ کیچوے مٹی میں سوراخ بنا کر اس میں ہوا اور پانی کی رسائی بہتر کرتے ہیں، درختوں سے گرنے والے پتے مٹی کے لیے غذا بن جاتے ہیں تاکہ پودے دوبارہ پھل پھول سکیں، حتٰی کہ بیماری سمجھے جانے والے بیکٹیریا بھی انسانی جسم کے اندر غذا کے ہضم ، بعض وٹامنز کی تیاری اور مدافعتی نظام کے لیے اس قدر اہم ہیں کہ ان کے زندہ رہنا بھی مشکل ہے ۔ طویل عرصہ تک غیر ضروری سمجھی جانے والی اپنڈکس کے بارے میں اب یہ تحقیقات سامنے آرہی ہیں کہ یہ مفید بیکٹیریا کا سٹور ہائو س ہے ۔ ان مثالوں سے دو سوال ذہن میں آتے ہیں :
- کیا تمام مخلوقات میں سب سے افضل، انسان بغیر کسی مقصد کے دنیا میں آتا ہے ؟
- اگر ہم کائنات کی بہت سی مخلوقات کے بارے میں غلط اندازہ لگا سکتے ہیں، تو کیا ہم اپنے مقصد اور صلاحیتوں کو ٹھیک طور پر سمجھ سکتے ہیں؟
اللہ پاک چونکہ ہمارے خالق ہیں اور وہ پہلے سے علم رکھتے ہیں انسان اپنے علم اور مشاہدے سے اپنی پیدائش کے مقصد کو پہچان نہیں سکتا اور نہ ہی بحیثیت مخلوق خود انسانیت کا کوئی ایسا مقصد تخلیق کر سکتا ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو ، لہٰذا وحی کے نظام اور انبیاء کے ذریعے یہ بات سمجھائی گئی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی ایک جامع آیت میں انسان اور جنات کی تخلیق کا اصل مقصد واضح فرما دیا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
اور میں نے جنات اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر اس کام کے لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔
اس آیت کی روشنی میں انسان کی دنیا میں آمد اور اس کی پیدائش کا حقیقی اور اصل مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی ہے۔ یہ زندگی اس لیے نہیں دی گئی کہ انسان صرف کمائے، کھائے ، نسل بڑھائے اور دنیا سے چلا جائے ؛ یہ کام تو جانور بھی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ اس نے انسانوں کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ کے لیے رزق کما کر لائیں یا اسے کھلائیں، کیونکہ رزق دینے والی ذات تو خود اللہ تعالیٰ کی ہے۔
یہاں ایک سوال یہ آسکتا ہے کہ اگر زندگی کا اصل مقصد عبادت ہے، تو کیا انسان اپنے 24 گھنٹے اسی کام میں گزارے؟ اللہ تعالیٰ بڑے کریم ہیں اور ہمیں چوبیس گھنٹے سجدے میں پڑے رہنے یا مسجد میں حاضر رہنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ صرف پانچ وقت کی نمازیں فرض کیں جن میں مجموعی طور پر ایک گھنٹہ بھی نہیں لگتا۔ دوسرا یہ کہ اسلام میں 'عبادت' کا وسیع ہے۔
شریعتِ اسلامی میں عبادت کی دو بڑی اقسام ہیں:
- خالص عبادات (پرستش کے معنی میں): یہ وہ افعال ہیں جن کا بنیادی مقصد کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی، پستی اور بندگی کا اعتراف کرنا ہوتا ہے، جیسے کہ نماز اور روزہ۔ اگرچہ ان عبادات سے کچھ ضمنی دنیاوی فائدے (جیسے نماز سے جسمانی ورزش یا روزے سے وزن کا کم ہونا) حاصل ہو جاتے ہیں، لیکن یہ ضمنی فوائد اصل مقصد نہیں ہیں۔ اگر کوئی شخص نماز صرف ورزش کی نیت سے پڑھے یا روزہ صرف ڈائیٹنگ کی نیت سے رکھے، تو وہ شریعت میں روزہ یا نماز شمار نہیں ہوگا۔
- عام زندگی میں اطاعت و بندگی: مذہبِ اسلام انسان کو مسجد سے نکلنے کے بعد بھی بے لگام نہیں چھوڑتا۔ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ ہوتے ہیں، جیسے جھوٹ، غیبت، زنا، شراب، سور، سود اور رشوت سے بچنا۔ جب ایک انسان اپنی روزمرہ زندگی کے معاملات—چاہے وہ تجارت ہو، ملازمت ہو، کھانا پینا ہو یا بیوی بچوں کے ساتھ خوش طبعی ہو—اللہ کے حکم کی اطاعت اور سنتِ نبوی کی پیروی کی نیت سے کرتا ہے، تو اس کا وہ ہر عمل عبادت بن جاتا ہے۔ اس طرح اسلام میں پوری زندگی کو عبادت میں تبدیل کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔
بزرگانِ دین کے مطابق، جو شخص بھی اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں اللہ کے حکم کے مطابق کام کر رہا ہو، وہ دراصل "ذاکر" (اللہ کا ذکر کرنے والا) ہے۔ ذکر صرف تسبیح ہاتھ میں لے کر سبحان اللہ پڑھنے کا نام نہیں (اگرچہ یہ بھی بہت اعلیٰ درجہ ہے)، بلکہ اللہ پاک کو راضی کرنے کی نیت سے ، کسی پریشان حال کی پریشانی کو دور کرنا، کسی کی تکلیف کا مداوا کرنا اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرنا بھی اللہ کی عبادت اور ذکر میں داخل ہے۔
خلاصہ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی کا اصل مقصد اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کرنا اور اس کی بندگی اختیار کرنا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کر رہے ہیں، تو ہماری زندگی بامقصد ہے، ورنہ زندگی محض کھانے، پینے، سونے اور بالآخر قبر میں پہنچ جانے کا ایک بے مقصد سفر بن کر رہ جائے گی۔
انسا ن کا باطن کیا چیز ہے ؟
جس طرح انسان کا ایک ظاہری جسم اور ڈھانچہ اور اعضا ہیں ، اسی طرح انسان کے اندر ایک مخفی نظام (نہ نظر آنا والا ) بھی کام کرتا ہے ۔ مثال کے طور پر انسان کی سوچ کو کوئی دیکھ نہیں سکتا لیکن ہر لمحے انسان کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ سوچ کے علاوہ انسان کے اندر جذبات اور خواہشات کا نہ نظر آنے والے نظام بھی مسلسل کام کر رہا ہوتا ہے ۔ یہ تینوں مل کے انسان کے کردار اور شخصیت بتاتے ہیں اور انسان کے ظاہری رویوں اور اعمال کے پیچھے کار فرما ہوتے ہیں۔
- سوچ ، غورو فکر ،تجزیے، یادداشت اور نتائج اخذ کرنے اور فیصلہ سازی کے نظام کو ’عقل‘ کہتے ہیں۔
- جسمانی اور نفسیاتی ضروریات اور خواہشات کے نظام کو ’نفس‘ کہتے ہیں۔
- جذبات و احساسات کے نظام کو ’قلب ‘ کہا جاتا ہے
نفس انسانی
اللہ پاک نے قرآن پاک میں سات قسمیں کھا کر فرمایا کہ انسان کی کامیابی کا دارومدار نفس کے تزکیہ پر ہے اور اسے ایسے ہی چھوڑ دینے کا مطلب یقینی تباہی ہے ۔ اس لیے تزکیہ اور تربیت کے لیے نفس کی فطرت، تقاضے اور مسائل سمجھنا ضروری ہے ۔
سورہ شمس میں اللہ پاک ، سورج ، چاند، دن ،رات ، زمین و آسمان اور پھر نفس ِ انسانی کی قسم کھا کر فرمایا :
وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ (۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ (۸) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ (۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ (۱۰)
اور انسانی جان کی (قسم)، اور اس کی جس نے اسے سنوارا۔ پھر اس کی بدکرداری اور پرہیزگاری (دونوں باتوں) کا اس کو القا کیا۔ فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔ اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے۔
فجور وتقویٰ کے الہام ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے ہر شخص کے سامنے خیرا ور شر (نیکی و بدی) کا راستہ کھول رکھا ہے ۔ فلاح (آخرت کی کامیابی کی نوید) اس کے لیے ہے جو اپنے نفس کا تزکیہ کر لے تاکہ تقویٰ اور خیر کے رستے پر چل سکے ۔ اور تزکیہ نا کرنے والے شخص کے لیے فجور یعنی بدی والا رستہ کھل جاتا ہے جس کا نتیجہ آخرت کی بربادی ہے ۔
نفس در اصل انسان کے اندر خواہشات کے پیدا ہونے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی تحریک کے نظام کوکہتے ہیں ۔ یہ خواہشات جسمانی بھی ہو سکتی ہیں جیسے اچھے اور لذیذ کھانوں کی خواہش یا جنس مخالف سے جسمانی تعلق کی خواہش ۔ اسی طرح یہ خواہشات نفسیاتی بھی ہوتی ہیں جیسے کہ معاشرے میں مقام اور جاہ کی طلب۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (۴۰) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ (۴۱) (سورۃ النازعات)
اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہش (برے ارادوں) سے روکا، تو جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔
وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُس۔۔۔الخ (الزخرف:۷۱)
اور وہاں(جنت میں ) وہ چیزیں ملیں گی جن کو جی(نفس) چاہے گا۔
ان آیات مبارکہ سے واضح ہے کہ نفس کاکام صرف خواہشات کا اجرا ہے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ نفس خود اچھائی یا برائی، فائدہ یا نقصان کی تمیز نہیں کرتا اور چونکہ اس میں خیر اور شر دونوں کا مادہ موجود ہوتا ہے(فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ) لہٰذا جو بھی انسان ، اس دنیا میں دیے گئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے صرف اپنی خواہشات کے پیچھے چلے اس کی آخرت میں تو تباہی یقینی ہے (وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ) ۔ بلکہ ایسا انسان دنیا میں بھی اپنا نقصان کر لیتا ہے ۔ مثال کے طور پر شوگر کے مریض عام طور پختہ عمر کے سمجھ دار لوگ ہوتے ہیں لیکن میٹھے کی خواہش سے خود کو نہیں روک سکتے۔ سڑکوں پر موٹر سائیکل سے خطر ناک کرتب کرنے والے اس کے نتائج کو جانتے ہیں پھر بھی دکھاوے کی خواہش کی پیروی کرتے ہوئے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
یہی انفرادی خواہشات ، جب دوسروں کی خواہشات سے ٹکراتی ہیں تو معاشرے میں بگاڑ، فساد اور لڑائی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔
خود کو اپنی بری خواہشات (فجور) سے باز رکھنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہی تزکیہ نفس کہلاتا ہے ۔ بری خواہشات میں وہ دونوں چیزیں شامل ہیں جو دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث بن سکتی ہیں اور ان تمام چیزوں کو قرآن و سنت میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے اور چیزوں کو اوامر و نواہی [Dos & Donts] یا شریعت کہتے ہیں ۔ گویا تزکیہ نفس سے مراد ، اپنی خواہشات کو قرآن وسنت کے تابع کرنا ہے ۔
- ایسا نفس جس میں برائی ( فجور) کا مادہ غالب ہو یا وہ انسان کو برائی کی طرف کھینچے ، اسے قرآن میں نفس امارہ کہا گیا ہے (وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ: اور میں اپنے نفس کو بالکل بے گناہ نہیں کہتا، یقیناً نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے)۔ یہ نفس کی فطری حالت ہے
- جو نفس ہر حال میں اللہ پاک سے راضی ہو اور اللہ کا ہر حکم اطمینان سے مان لے ( چاہے وہ احکام شریعت کے ہیں یا عمومی احوال ِ زندگی) اسے نفس مطنمئنہ کہا گیا ہے (یا ايَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَیِٔنَّۃُ﴿﴾ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰي رَبِّكِ رَاضِيَۃً مَّرۡضِيَّۃً: [البتہ نیک لوگوں سے کہا جائے گا کہ:] اے وہ جان جو [اللہ کی اطاعت میں] چین پا چکی ہے !اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آجا کہ تو اس سے راضی ہو ، وہ تجھ سے راضی)۔ یہی حقیقی کامیابی کا مقام ہے اور یہی تصوف کا مقصد بھی۔
- ان دو حالتوں کے درمیان نفس کی ایک اور حالت بھی ہوتی ہے جسے نفس لوامہ کہا گیا ہے ۔ (وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی)۔ یہ نفس کی وہ حالت ہے جس میں بندہ مومن جب اپنے آپ کو خدا کی یاد سے غافل پاتا ہے یا دنیا میں مشغول پاتا ہے یا کوئی نافرماتی کر بیٹھتا ہے تو فوراََ اللہ پاک کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے ۔
قلبِ انسانی
قلب و دل کا موضوع سمجھنا دو وجوہات کی بنا پر ضروری ہے : بنیادی ضرورت تو یہ ہے کہ قرآن میں اللہ پاک نے آخرت میں کامیابی کے لیے ’قلبِ سلیم‘ کو ضروری فرمایاہے: سورہ شعرا میں ہے :
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ (۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍﭤ (۸۹)
جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے ۔ ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)
اسی طرح سورۃ ق میں ہے :
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ : یقینا اس (قرآن) میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت کا سامان ہے جس کے پاس (فہیم) دل ہو
اور دل یعنی قلب میں خرابی ہو تو اس بارے میں سورۃ اعراف میں ہے کہ بظاہر صحتمند آنکھیں اور کان ہونے کے ، یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے:
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (۱۷۹) : اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے ، یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ، یہی لوگ غافل ہیں۔
اسی طرح اچھے اور برے اعمال کے اثرات قلب پر پڑتے ہیں۔ اللہ پاک فرماتے ہیں :
اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ (الرعد: ۲۸) : یاد رکھو اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے
كَلَّا بَلْسکتہ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (مطففین: ۱۴) : دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے
قلب کو سمجھنے کی دوسری ضرورت ، اس اصطلاح کی سائنسی یا طبی اصطلاح کے ساتھ کے سینے میں دھڑکنے والا جسمانی دل ، جانوروں اور مردوں میں بھی پایا جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ ، دماغی موت ہو جانے کے باوجود بھی دھڑک رہا ہو تا ہے، اس لیے قرآن میں ’قلب سلیم‘ یا ’بیمار دل‘ کی اصطلاحوں سے مراد ’روحانی دل ‘ ہے جو جمانی دل کے ساتھ ایسے ہی منسلک ہے جیسے روح باقی سارے جسم میں موجود ہے ۔ روحانی قلب ، احساسات ، جذبات ، خوف و امید، محبت و نفرت اور غصہ وغیرہ کا مرکز ہوتا ہے ۔ شیطان کی طرف سے وسوسوں (الذی یوسوس فی صدور الناس ) اور اللہ کی طرف سے الہام (وَ اَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ : ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے ) بھی روحانی دل کو ہوتا ہے ۔
اگر نفس کا تزکیہ نا ہوا ہو اور وہ تقویٰ کی بجائے فجور سے مغلوب ہو تو مسلسل ، بری خواہشات دل کو متاثر کرتی رہتی ہیں اور برے جذبات مثلاََ نفرت ، غصہ ، حسد اور کینہ روحانی دل میں ایسے ہی پہنچتے ہیں جیسے جسمانی دل میں جگر سے خوراک لے کے خون پہنچتا ہے ۔ روحانی دل سے یہی اثرات جسم پر بھی نمودار ہوتے ہیں جیسے غصے سے چہرہ سرخ ہونا ، ڈر سے دھڑکن تیز ہونا یا کانپنا ۔ اور اگر نفس پاک ہو جائے تو دل تقویٰ کا مرکز بن جاتا ہے ( ذٰلِك١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ : یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ بات دلوں کے تقوی سے حاصل ہوتی ہے) اور اس میں نیک جذبات اور اللہ پاک اور رسول اللہ ﷺ کی محبت غالب ہو جاتی ہے ۔
دل، ذکر اللہ سے سکون پاتا ہے اور قلبِ مطمئنہ بنتا ہے ( اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ) اور برے اعمال کو جو زنگ دلوں پر چڑھتا ہے تو اس کت بارے میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ کا ذکر ہے۔ اسی لیے صوفیا نے دلوں کی اصلاح کے لیے، حالات اور نفسیات کے مطابق، ذکر کے مختلف طریقے وضع کیے ہیں۔
عقلِ انسانی
عقل ، اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے جو انسان کو حیوانات سے جدا کرتی ہے ۔ اسی صلاحیت کی وجہ سے انسان ، اللہ پاک کے احکام سمجھ سکتا ہے اور شریعت کا مکلف ہے ( جانوروں، نا بالغوں اور دیوانوں سے شریعت کی جوابدہی نہیں ) ۔اور درجنوں مقامات پر ، قرآن انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ۔
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (۲۴۲)
"اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو (سمجھو)
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (۱۹۰)
بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں ان عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ، )آل عمران)
سورۃ انفال میں اللہ پاک نے عقل سے کام نہ لینے والوں کو بدترین جانور فرمایا ہے :
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ(۲۲)
بیشک اللہ کے نزدیک سب جانداروں سے بدتر وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
دنیاوی لحاظ سے ، عقل کا کام معلومات کا ذخیرہ کرنا ، چیزوں اور واقعات کو سمجھنا ، ان میں غور و فکر کر کے نتائج اور نئی معلومات اخذ کرنا، تجزیہ اور فیصلہ سازی ہے ۔ عقل کو معلومات ، ہماریے پانچ حواس (دیکھنا ، سننا، چھونا، سونگھنا، چکھنا ) سے ملتی ہیں ۔ پھر انسان، اپنے تجربات اور گزشتہ معلومات کی روشنی میں نتیجہ اخذ کر کے فیصلہ سازی کر لیتا ہے ۔ مثال کے طور پر ؛
- آپ گاڑی میں جا رہے ہیں اور اچانک آگے ٹریفک بلاک نظر آتی ہے ( دیکھنے اور سننے کی حس سے معلومات )۔
- آپ سمجھ لیتے ہیں کہ آگے راستہ بند ہے اور آگے جانا ممکن نہیں ۔(ادراک اور سمجھ )
- آپ متبادل راستہ کے متعلق معلومات لیتے ہیں کہ فاصلہ کتنا ہے اور وہاں ٹریفک کی صورتحال کیا ہے۔( مزید معلومات)
- آپ اپنے سامنے دو متبادل راستوں پر غور کرتے ہیں : ایک لمبا ہے لیکن خالی ، دوسرا مختصر ہے مگر وہاں بھی رش ہے ( غور ، فکر ، تجزیہ)
- آپ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ لمبے راستے پر جانے سے آپ جلدی پہنچ سکتے ہیں اور آپ اس طرف چل پڑٹے ہیں ( نتیجہ اخذ کرنا، فیصلہ کرنا اور عمل کرنا)
عقل کے اس سارے فعل کو کچھ اس طرح دکھایا جا سکتا ہے:
دیکھنا ←سمجھنا ←معلومات لینا ←موازنہ کرنا ←غور کرنا ←نتیجہ نکالنا ←فیصلہ کرنا ←عمل کرنا
حضرت شاہ ولی اللہ رح کے مطابق، مقاصد کے اعتبار سے ، عقل کے دو بڑے رخ ہیں :
عقلِ معاش (عملی عقل): جو زندگی کے روزمرہ کام کاج گھریلو نظام ، روزی و معاش اور معاشرتی نظام کو سنبھالتی ہے۔ دنیا اور اس کے نظا م ، تعلیم و تربیت انسان کو اسی میں مشغول رکھتے ہیں۔
عقلِ روحانی (نظری، عقلِ معاد): جو انسان کو اپنے خالق کو پہچاننے، کائنات کے نظام میں غور کرنے اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس مقصد کی رہنمائی کے اللہ پاک نے انبیا ء بھیجے اور وحی کے ذریعے تعلیم فرمائی کیونکہ عقلِمعاش کے ذریعے سب انسانوں کا اپنے خالق اور دنیا میں آنے کے مقصد ( وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ : اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں( کو پہچاننا محال تھا ۔
تزکیہ کے عمل میں ، اسی روحانی عقل کو بیدار کیا جاتا ہے تاکہ وہ قرآن کی دعوت فکر کے مطابق ، اپنے خالق کو پہچانے ، صرف اسی کی بندگی کرے اور قرآن وسنت کا فہم حاصل کر کے ، عقل معاش کو قرآن و سنت کے دائرے کے اندر استعمال کرے ۔
نفس ، قلب اور عقل کا تعلق
نفس ، قلب اور عقل اکٹھی صرف دو مخلو قات میں ہیں یعنی انسان اور جن ۔ اسی لیے ان دونوں کے لیے اللہ پاک کی بندگی و عبادت مقرر ہوئی (وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ : اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں) اور انہی کے لیے آخرت میں ان کے اچھے برے اعمال پر سزا و جزا ہو گی ۔ فرشتے بھی اللہ پاک کی ایک مخلوق ہیں ، ان میں عقل موجود ہوتی ہے ۔ آدم کی پیدائش پر فرشتوں اور اللہ پاک کے مکالمے میں اس کا اشارہ موجود ہے ۔ سورہ بقرہ میں ہے :
وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (۳۱) وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (۳۲) قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ (۳۳)
اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں وہ کہنے لگے۔ کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو اس میں فساد مچائے اور خون خرابہ کرے حالانکہ ہم آپ کی تسبیح اور حمد و تقدیس میں لگے ہوئے ہیں اللہ نے کہا : میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور آدم کو (اللہ نے) سارے نام سکھادیئے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور (ان سے) کہا اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتلاؤ۔ وہ بول اٹھے آپ ہی کی ذات پاک ہے جو کچھ علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے حقیقت میں علم و حکمت کے مالک تو صرف آپ ہیں۔
فرشتوں کا اپنا اور انسان کا موازنہ کرنا، انسان کی تخلیق کا مقصد پوچھنا ، اپنے علم ( جتنا اللہ پاک نے دیا ) کا اظہار ، اور حکیمانہ طریقے سے سمجھائے جانے پر ( اشیا ء کے نام نا آنا) اپنی لا علمی سمجھ جانا یہ واضح کرتا ہے کہ فرشتوں میں عقل کے شعبے ( حواس ، سمجھ ، یاد داشت، تجزیہ، موازنہ اور نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت )موجود ہے۔ البتہ ان میں نفس یعنی خواہشات موجود نہیں ، اسی لیے اللہ پاک کے حکم کا نکار نہیں کیا اور آدم کو سجدہ کر لیا ۔ اللہ پاک فرشتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’بیشک جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کے آگے سجدہ کرتے ہیں(سورہ اعراف:۲۰۶)‘۔ فرشتوں کی ہمہ وقت عبادت و بندگی میں مشغولی اور کسی اور چیز کا دھیان نہ ہونا اور تکبر نا ہونے کا مطلب یہی ہے کہ ان میں خواہشات موجود نہیں۔
جس کا قرآن میں ذکر ہے کا آمیزہ اور ربط ہی انسان کو وہ مخلوق بناتا ہے جسے قرآن میں بطور ’انسان ‘ مخاطب کیا گیا ہے اور یہی تینوں مل کر شریعت کے احکام کی پابند ہیں۔
اللہ پاک کی ایک اور مخلوق حیوانات ( (Animalمیں قلبی جذبات جیسے محبت ( آپس میں اور حتٰی کہ انسانوں سے بھی ) اور ڈر خوف وغیرہ موجود ہوتا ہے ، اسی طرح نفسانی خواہشات ( بھوک ، نیند اور شہوت وغیرہ) بھی موجود ہیں اور اسی طرح حواس، یاداشت اور کسی قدر سیکھنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے لیکن ان کے اند عقل کی وہ جہت و صلاحیت موجود نہیں ھو اللہ پاک کے شرعی احکام کو سمجھ سکے ۔ اسی لیے ان پر آخرت کی سزا و جزا نہیں ہے اور ایسے انسان جو دنیاوی عقل رکھنے کے باوجود ، اللہ ہاک کی بات اور حکم کو نہ سمجھیں ، انہیں قرآن میں جانوروں ہی سے تشبیہہ دی گئی ہے ۔ (إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ(سورہ انفال۲۲) بیشک اللہ کے نزدیک سب جانداروں سے بدتر وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔)
امام غزالیؒ کے نزدیک انسان عقل، خواہشات اور جذبات کا مجموعہ ہے۔ ان تینوں کے ایک خاص توازن کی وجہ سے ہی انسان کا درجہ فرشتوں سے مختلف اور جانوروں سے بلند ہے۔ بچپن میں، انسان میں صرف کھانے پینے اور دیگر ضروریات و خواہشات ہوتی ہے۔ جب وہ بالغ ہوتا ہے تو اس کی عقل اور سمجھ بوجھ پختہ ہونے لگتی ہے۔ اس کے بعد انسان کی سوچ، دل کے جذبات اور نفس کی خواہشات ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور مل کر اس کے فیصلوں، رویوں اور کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ جب عقل کی نعمت حاصل ہوتی ہے اور انسان صحیح اور غلط کی تمیز کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کر لیتا ہو توسمجھ سکتا ہے کہ کونسی خواش یا کونسا جذبہ اس کے لیے آخرت میں خرابی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ یعنی اب اس انسان کے اندر، خواہشات ، جذبات اور غورو فکر آپس میں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ کے مطابق :
- اگر انسان اپنے علم، معرفت اور عقل کے نور کو استعمال کر کے اپنی شہوات اور نفسانی خواہشات کو مغلوب کر لے، تو وہ فرشتوں کے مشابہ بن جاتا ہے اور مقربینِ الٰہی کے اعلیٰ درجات حاصل کرتا ہے ۔[احیا ء العلوم : 181 ، 343]
- لیکن اگر انسان اپنی عقل کو معطل کر دے اور صرف جسمانی لذتوں، کھانے پینے اور شہوتوں کی تکمیل میں غرق ہو جائے، تو وہ خود کو جانوروں کے درجے میں گرا دیتا ہے، بلکہ اپنی استعداد کو ضائع کرنے کی وجہ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ [ احیا ء العلوم : 181، 344، 786]
ایک عام زندگی کی مثال سے سمجھیں۔فرض کریں آپ کو ایک بہت پرکشش مگر غیر ضروری چیز خریدنے کا موقع ملتا ہے۔
- نفس: "مجھے یہ چیز چاہیے۔ بہت اچھی ہے، ابھی خرید لیتا ہوں۔"
- عقل: "کیا مجھے واقعی اس کی ضرورت ہے؟ قیمت کیا ہے؟ میرے بجٹ پر کیا اثر ہوگا؟ کیا کوئی بہتر متبادل ہے؟"
- قلب: یہاں انسان کی اندرونی orientation سامنے آتی ہے: قناعت، شکر، حرص، محبتِ دنیا، اللہ کی جواب دہی کا احساس وغیرہ میں سے کون سی کیفیت غالب ہے؟
- پھر انسان فیصلہ کرتا ہے اور نفس اس فیصلے پر عمل بھی کرتا ہے۔
اس لیے ایک conceptual chain یوں بن سکتی ہے:
نفس خواہش پیدا کرتا ہے ←عقل سمجھتی اور پرکھتی ہے ←قلب کی کیفیت اور orientation فیصلے کو متاثر کرتی ہے ←انسان ارادہ کرتا ہے ←نفس اور جسم عمل کرتے ہیں۔
لیکن یہ کوئی mechanical formula نہیں ہے۔ تینوں dimensions ایک دوسرے پر مسلسل اثر انداز ہوتے ہیں ۔ مختلف صورتحال میں ، ایک ہی انسان میں یہ زنجیر مختلف بھی ہو سکتی ہے اسی لیے انسان کئی دفعہ غیر متوقع ردعمل دیتا ہے۔
تزکیہ کے لیے بنیادی نکتہ ہے کہ نفس یا خواہشات کو ختم کرنا ہے، بلکہ نفس کو پاک اور متوازن کرنا ہے؛ قلب کو زندہ اور سلیم کرنا ہے؛ اور عقل کو صحیح استعمال کرنا ہے۔اسی لیے قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جس کے اندر:
پاک نفس + سلیم قلب + صحیح تعقل ←درست عمل پیدا ہو