ایک عملی صوفی کا طرز عمل

صوفی کون ہوتا ہے ؟ آسان جواب تو یہ ہے کہ جو تصوف اختیار کرے یعنی جو اپنے ظاہر و باطن کے تزکیے سے ، پورے خلوص سے شریعت پر عمل کرنا سیکھے۔ صوفی اور تصوف کا لفظ کہاں سے نکلا ایہ ایک لمبی بحث اور تحقیق ہے ۔ مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ صوفی دراصل ، سورہ مزمل کی عملی تفسیر ہوتا ہے ۔ سورہ مزمل قرآن کریم کی وہ عظیم الشان سورت ہے جس میں باری تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت و عزیمت اور بارِ نبوت اٹھانے کے لیے باطنی و روحانی تربیت کا پورا نصاب عطا فرمایا ہے۔ اس سورہ کی رہنمائی میں صوفی کا طرز عمل جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

سورہ مزمل اور سیرتِ صوفی

1۔ "یا اَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ": (اے چادر اوڑھنے والے)

سورت کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو "یا اَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ" (اے چادر اوڑھنے والے) کے شفقت بھرے خطاب سے ہوتا ہے۔ جیسے حضورؐ نے آغاز وحی کے موقع پر چادر لپیٹ لی تھی، اسی طرح اهلِ طریق اور صوفیاء کا بھی یہ معمول اور شیوہ ہے کہ وہ اپنے باطن کو یکسو رکھنے، نظر اور خیالات کو منتشر نہ ہونے دینے اور خود کو فضولیات سے بچانے کے لیے چادر اوڑھ کر یا تنہائی اختیار کر کے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے ہیں۔

2۔ قیام اللیل (شب بیداری) اور ذکرِ نیم شب

  • قرآنی حکم: "قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ نِصْفَهٗ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلاً ۔ اَوْ زِدْ عَلَیْهِ۔ (رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو، مگر تھوڑی رات؛ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس پر کچھ بڑھا دو)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • سالک و صوفی کی روحانی زندگی کی سب سے بڑی بنیاد تہجد اور شب بیداری ہے۔ رات کا آخری حصہ شور و غل اور مشاغلِ دنیا سے خالی ہوتا ہے، جس سے قلب میں یکسوئی، حضور اور لذت پیدا ہوتی ہے۔
    • میانہ روی ا ور اعتدال: شریعت نے پوری رات جاگنے کی بجائے کچھ حصہ سونے اور کچھ حصہ عبادت کرنے کا حکم دیا تاکہ طبیعت میں بوجھ اور سستی پیدا نہ ہو اور قابل عمل رہے۔ صوفی کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ مجاہدہ بھی اعتدال سے کرتا ہے کیونکہ مقصد خود کو تکلیف پہچانا نہیں بلکہ اللہ پاک کی رضا حاصل کرنا ہے ۔ تصوف اور رہبانیت /جوگ وغیرہ میں یہ بڑا فرق ہے کہ تصوف میں انتہا بسندی یا شدت پسندی نہیں ۔ بلکہ اپنے جسمانی اور معاشرتی تقاضے جائز حد میں رہ کر پورے کرنے ہوتے ہیں ۔

3۔ ترتیلِ قرآن: قرآن کے معانی میں غور و فکر اور دل سے تلاوت کرنا

  • قرآنی حکم: وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً۔ (اور قرآن کو خوب صاف صاف ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • صوفی کے لیے تلاوتِ قرآن محض الفاظ کی ادائیگی نہیں بلکہ اسے محبوب کا کلام سمجھ کر اس کے معانی میں غوطہ زنی ہے۔
    • آيات پر ٹھہر کر پڑھنا زبان اور دل میں مطابقت پیدا کرتا ہے ("اَشَدُّ وَطْئاً وَّاَقْوَمُ قِیْلاً")۔ صحابہ اور ان کے بعد آنے والے بزرگوں کا اصل وظیفہ اور قرب الٰہی کا ذریعہ یہی تلاوتِ قرآن اور نماز تھی، بعد کے صوفیاء نے دل کی سختی کا علاج کرنے کے لیے ذکر و اشغال کے دیگر طریقوں کو علاجاً تجویز فرمایا، ورنہ اصل مقصد اخلاص و حضورِ قلب کے ساتھ کلامِ الٰہی سے تعلق جوڑنا ہے۔

4۔ کلام اللہ کا تحمل

  • قرآنی حکم: اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاً۔ (ہم عنقریب تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • احکامِ الٰہی اور بارِ شریعت اٹھانا نفس پر بھاری ہوتا ہے۔ رات کی عبادات اور قرآن کی تلاوت سے انسان کے اندر وہ روحانی طاقت اور باطنی مضبوطی پیدا ہوتی ہے جس سے وہ احکامِ شرعیہ، مشقتوں اور مصائب کا بارِ گران آسانی سے اٹھا سکتا ہے۔
    • سچا صوفی کبھی احکامِ شرعیہ کو ہلکا نہیں سمجھتا بلکہ "الاستقامة فوق الكرامة" پر عمل کرتے ہوئے شریعت کے ہر حکم پر ثابت قدم رہتا ہے۔

5۔ خالق اور مخلوق کے حقوق میں اعتدال اور میانہ روی

  • قرآنی حکم: اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحاً طَوِیْلاً۔ (بے شک دن میں تم کو بہت سے کام رہتے ہیں)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • کامل صوفی وہ نہیں جو دنیا و معاشرت کو بالکل چھوڑ کر کسی غار میں بیٹھ جائے۔دن کا وقت معاشرتی ذمہ داریوں، خدمتِ خلق، تعلیم و تربیت اور اصلاحِ احوال (سَبْحاً طَوِیْلاً) کے لیے ہے، جبکہ رات کا وقت خالق کی خلوت و مناجات کے لیے ہے۔
    • صوفی کا طرزِ عمل حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کامل اعتدال پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ خلق کے ساتھ مشغول رہتے ہوئے بھی باطن میں حق تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتا۔

6۔ ذکرِ الٰہی اور تبتیل (مکمل یکسوئی)

  • قرآنی حکم: وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلاً۔ (اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • مسلسل ذکر: صوفی کی زبان اور دل ہر وقت رب کے نام کی یاد سے تر رہتے ہیں۔
    • تبتیل کی حقیقت: تبتیل کا مطلب ہے دل کو غیر اللہ کی محبت، اسباب پر بھروسے اور دنیاوی علائق سے پاک کر کے مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دینا۔ صوفی کا تعلق اور محبت صِرف ذاتِ الٰہی کے لیے ہوتی ہے۔

7۔ توکل اور تفویض (اللہ کو سپردگی)

  • قرآنی حکم: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ اِلٰهَ اِلاَّ ھُوَ فَاتَّخِذْهُ وَکِیْلاً۔ (وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، لہذا اسی کو اپنا کارساز/وکیل بنا لو)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • صوفی کا اپنے تمام معاملات، رزق، صحت، تدبیر اور نتائج کو اللہ کے سپرد (تفویض) کر دینا ہی اصل توکل ہے۔ جب رب مشرق و مغرب کا اکیلا مالک ہے تو پھر مخلوق کی چاپلوسی یا ان کے خوف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

8۔ صبر اور خوبصورت طریقے سے درگزر

  • قرآنی حکم: وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْراً جَمِیْلاً۔ (اور جو باتیں یہ لوگ کہتے ہیں ان پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہو جاؤ)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • سیرتِ صوفی کا ایک نمایاں وصف حسنِ اخلاق، صبر اور عفو و درگزر ہے۔ مخلوق کی طرف سے ملنے والی اذیتوں، طعنوں اور مخالفتوں پر وہ غصے یا انتقام کے بجائے صبر کرتا ہے۔
    • ہجرِ جمیل: درگزر اور کنارہ کشی کا ایسا انداز جس میں نہ کینہ ہو، نہ بغض، نہ انتقام کی نیت اور نہ ہی تعلقات میں زہر گھلا ہوا ہو، بلکہ دل ہر قسم کے بدلے کی خواہش سے پاک ہو۔

9۔ فکر ِ آخرت

  • قرآنی حکم: فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ۔ اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا۔ (اگر تم بھی (ان پیغمبروں کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچّوں کو بوڑھا کر دے گا ۔(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • آخرت کی فکر اور دھیان رکھنا تاکہ دنیا کی محبت کم ہوتی رہے اور آخرت کی تیاری کے لیے اچھے اعمال کرنے اور برے اعمال سے بچنے کا جذبہ مضبوط ہوتا رہے
    • تمام اچھے اعمال کی نیت آخرت کا اجر اور اللہ پاک کی رضا ہو ، ناکہ کوئی دنیاوی فائدہ یا دکھاوا کیونکہ ان اعمال سے آخرت میں کوئی فائدہ نا پہنچے گا

10۔ توبہ و استغفار

  • قرآنی حکم: وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠۔ (اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے)۔
  • تشریح و طرزِ عمل:
    • نیک اعمال اختیار کرتے ہوئے بھی اللہ پاک سے توبہ و استغفار طلب کرنی ہے تاکہ نظر اپنے اعمال پر نا پڑے اور دل میں اپنے اعمال پر بڑائی اور تکبر نا پیدا ہو۔

خلاصہ و حاصلِ کلام

سورہ مزمل سے ثابت ہوتا ہے کہ صوفی کا طرزِ عمل کوئی پراسرار یا شریعت سے ہٹا ہوا راستہ نہیں ہے۔ صوفی کی اصل سیرت یہ ہے:

  1. باطنی میں: خلوت، ذکرِ الٰہی، توکل ، اللہ کی طرف یکسوئی، تزکیہ نفس
  2. ظاہر ی اعمال : اتباعِ شریعت ( فرائض ، واجبات، نفل، تہجد وغیرہ) ، ترتیلِ قرآن ( محبت سے تلاواتِ قرآن) ، ذکر الٰہی معاشرتی فرائض کی ادائیگی، صبر اور اچھے اخلاق
  3. فکرِ آخرت: آخرت کا دھیان، صحیح نیت ، توبہ و استغفار

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نصییحت

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نصییحت نے اپنے ایک مکتوب نے خواجہ شرف الدین حسین رحمتہ اللہ کو اسی طرح کی نصیحتیں فرمائیں:

  1. فرصت کے لمحات کو ضائع کرنے کی بجائے ، اللہ کی خوشنودی میں استعمال کریں ۔ ( ذکر، تلاوات ، نفل وغیرہ )
  2. نماز با جماعت ، تعدیل ارکان( یعنی صحیح طریقے سے ) اور جمیعت قلب ( یعنی درست نیت اور دل سے اللہ پاک کی طرف متوجہ ہوکر) ادا کریں
  3. نماز تہجد ہاتھ سے نا جائے۔
  4. صبح کے وقت استغفار کو نہ چھوڑیں اور خواب خرگوش میں پڑے رہیں
  5. دنیاوی آسائشوں پر فریفتہ نا ہوں اور موت کی یاد اور فکر آخرت کو اپنا نصب العین بنائیں
  6. مختصر یہ کہ دنیا میں ضرورت کے مطابق مشغول ہوں ،باقی وقت آخرت سنوارنے میں گزاریں ۔ انسان کا ظاہر شریعت کے مطابق ہو، اور دل غیر اللہ سے آزاد ہو (یعنی مخلوق کے اثر سے پاک ہو)