ایمان ، اسلام ، احسان اور تصوف

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ ۧ(۹۳)

جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، اور نیکی پر کار بند رہے ہیں، انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا ہے، اس کی وجہ سے ان پر کوئی گناہ نہیں ہے، بشرطیکہ وہ آئندہ ان گناہوں سے بچتے رہیں، اور ایمان رکھیں اور نیک عمل کرتے رہیں، پھر (جن چیزوں سے آئندہ روکا جائے ان سے) بچا کریں، اور ایمان پر قائم رہیں اور اس کے بعد بھی تقوی اور احسان کو اپنائیں۔ اللہ احسان پر عمل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (المائدہ)

اس آیت کے مطابق ، کوئی بھی انسان اللہ پاک کا محبوب بن سکتا ہے اگر اس میں تین خوبیاں ہوں :

  1. ایما ن حاصل ہو
  2. نیک اعمال کرے اور برے اعمال سے بچے
  3. تقویٰ و احسان اختیار کرے

دین کے ان تین شعبوں کی وضاحت ، بخاری شریف کی حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یوں موجود ہے :

’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ ایک نیا آدمی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا:

یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، رسولوں اور اس کی ملاقات پر ایمان لاؤ اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ۔

انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تنہا اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔

انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ورنہ یہ عقیدہ لازماً رکھو کہ اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔‘

ایمان حاصل ہونے کے بعد ، دو مزید درجے ہیں ۔

  • ایک اچھے اعمال جیسے نماز ، روزہ ، حج زکو ٰۃ، صدقات وغیرہ کا دا کرنا اور جھوٹ ، چوری وغیرہ سے بچنا ۔ ان اعمال سے متعلق احکام اور علوم کو فقہ کہتے ہیں
  • دوسرا ان تمام اعمال کو صاف نیت اور صرف اللہ پاک کے لیے کرنا اور معمولی سے معمولی گناہ سے بھی بچنا کہ کہیں اللہ پاک ہم سے ناراض نا ہو جائیں۔ اس کیفیت کو تقویٰ اور احسان کہتے ہیں اور اسے سمجھنے اور حاصل کرنے کے فن کا نام تصوف پڑ گیا۔

ان دونوں درجوں کو حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے ’دین اسلام کی دو حیثیتیں‘ قرار دیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چونکہ دین کی حفاظت کا وعدہ اللہ پاک نے فرمایا ہے (انا لحافظون ) اس لیے دین کی ان دونوں جہتوں کی حفاظت کے بھی دو نظام ہوں گے ۔ اپنی کتاب ’ھمعات‘ میں فرماتے ہیں :

’وہ بزرگ جن کو خدائے تعالٰی کی طرف سے شریعت کی استعداد ملی تھی وہ تو دین کی ظاہری حیثیت کے محافظ بنے۔ یہ فقہا، محدثین ، نمازیوں اور قاریوں کی جماعت ہے۔۔۔۔ دین کے محافظین کا دوسرا گروہ وہ ہے جسے خدائے تعالیٰ نے باطن دین کی حفاظت کی ، جس کا دوسارا نام ’احسان‘ ہے ، استعداد عطا فرمائی۔ ہر زمانے میں اس گروہ کے بزرگ عوا م الناس کے مرجع رہے ہیں ۔ طاعت و نیکو کاری کے اعمال سے باطن ِ نفس میں جو اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دلوں کو جو لذت ملتی ہے ، یہ بزرگ لوگوں کو ان امور کی دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ انہیں نیک اخلاق اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔‘

یعنی دین کی ظاہری اور باطنی حیثیتیں اللہ پاک کے فضل سے قیامت تک محفوظ رہیں گی ۔ ظاہری جہت کی حفاظت و خدمت پر مامور جماعت فقہا و علما کہلاتی ہے جبکہ باطنی حیثیت یعنی احسان کےشعبہ کی خدمت کرنے والی جماعت صوفیا ء کی ہے ۔